نوحہ میر نظیر باقری
لٹ کے کنبہ تیرا آیا ھے مدینے والے
تیری امت نے ستا یا ھے مدینے والے
جتنا سامان تھا سب اہل حرم کا لوٹا
اورگھروں کو بھی جلایا ھے مدینے والے
تیرا اسلام جو اجڑا تو نواسے نے تیرے
اس کو لاشوں سے بسایا ھے مدینے والے
ایک رسی میں گلےباندھ کےسب لوگوںکے
شام و کوفہ میں پھرآیا ھے مدینے والے
ہائے تقدیر کہ لاشہ بھی جواں بیٹے کا
باپ نے خود ہی اٹھایا ھے مدینے والے
قید خانے میں سکینہ نے بھی دم توڑ دیا
دل نے یہ زخم بھی کھایا ھے مدینے والے
آرہی ہے تیرے روضے پہ نواسی تیری
سر پہ چادر ہے نہ سایا ھے مدینے والے
جنکے پیروںکےتلے پھول بچھا کرتے تھے
ان کو کانٹوں پہ چلایا ھے مدینے والے
مدتوں کوکھ جلی ماں نے علی اصغر کے
خالی جھولے کو جھلایا ھے مدینے والے
آگ مقتل میں برستی رہی پانی بھی نہ تھا
جو لڑا خوں میں نہایا ھے مدینے والے
لے کے نوحہ تیرے کنبے کی تباہی کا نظیر
تیری سرکار میں آیا ھے مدینے والے
This channel managed by Ya Zehra Tv Network - India's Largest YouTube management Network.
