NauhaDiary

Mere Bachy Hain Abhi Chohte Ya Ali

رو کے زہرا علی سے یہ کہتی رہی میرے بچے ہیں چھوٹے ابھی یا علی

ان کا کیا ہوگا جب میں گزر جاؤں گی میرے بچے ہیں چھوٹے

ابھی یا علی

میرے بچوں کو لوری سنائے گا کون

سو گئی میں تو ان کو سلائے گا کون

کون اٹھائے گا ناز انکے میری طرح

اپنے ہاتھوں سے لقمے کھلائے گا

کون مادر کی پوری کرے گا کمی

‎کیسے ہوگا بھلا میرا غسل و کفن

چور زخموں سے ہے میرا سارا بدن

کس طرح سے سنبھاللیں گے مجھ کو بھلا

ننھے ہاتھوں سےاپنگ کو حسین و حسن

ان سے میت مری اٹھ نہیں پائی گیُ

کچھ دنوں میں گزر جائے گی ان کی ماں

مت بتاتنا کہ زخمی تھیں یہ پسلیاں

میں تو آنسو بھی ان سے چھپاتی رہی

کیسے دیکھیں گے وہ میرے خوں کے نشاں

ان سے چادر چھپانا میری خوں بھری-

آئی دربار سے جس گھڑی اپنے گھر

رو پڑے میرے بچے مجھے دیکھ کر

پوچھا منہ پہ تماچوں کے کیوں ہیں نشاں

کان کی بالی اماں گری ہے کدھر

چپ رہی اپنے بچوں سے کیا بولتی

قبر میں روؤں گی ان سن سن کے بین

جانے کب آئے گا میرے بچوں کو چین

مجھ کو معلوم ہے نیند سے جاگ کر

مجھ کو ڈھونڈیں گے میرے حسن اور حسین

کیسے سمجھیں گے اب ماں نہیں آئے گی

خود سے کرتی ہوں اکثر یہ رو کر سوال

کون رکھے گا مولا تمہارا خیال

اس جوانی میں دڑھی سفید ہوگئی

میرے مرنے سے ہو جائیں گے اور نڈھال

خود کو مولا سبنھالیں قسم ہے مری

میر سجاد ماں کی جو میت اٹھی

ماں کو اولاد کھل کر نہیں رو سکی

آستیں منہ میں رکھ رکھ کے روتے تھے سب

انکی غربت پہ روتے رہے خود علی

فاطمہ کی کفن سے صدا آتی تھی

For Anjumans

Do you run an anjuman?

Give it a home on NauhaDiary — publish your own nohay, list your reciters, and announce your majalis.

Create your anjuman →