رو کے زہرا علی سے یہ کہتی رہی میرے بچے ہیں چھوٹے ابھی یا علی
ان کا کیا ہوگا جب میں گزر جاؤں گی میرے بچے ہیں چھوٹے
ابھی یا علی
میرے بچوں کو لوری سنائے گا کون
سو گئی میں تو ان کو سلائے گا کون
کون اٹھائے گا ناز انکے میری طرح
اپنے ہاتھوں سے لقمے کھلائے گا
کون مادر کی پوری کرے گا کمی
کیسے ہوگا بھلا میرا غسل و کفن
چور زخموں سے ہے میرا سارا بدن
کس طرح سے سنبھاللیں گے مجھ کو بھلا
ننھے ہاتھوں سےاپنگ کو حسین و حسن
ان سے میت مری اٹھ نہیں پائی گیُ
کچھ دنوں میں گزر جائے گی ان کی ماں
مت بتاتنا کہ زخمی تھیں یہ پسلیاں
میں تو آنسو بھی ان سے چھپاتی رہی
کیسے دیکھیں گے وہ میرے خوں کے نشاں
ان سے چادر چھپانا میری خوں بھری-
آئی دربار سے جس گھڑی اپنے گھر
رو پڑے میرے بچے مجھے دیکھ کر
پوچھا منہ پہ تماچوں کے کیوں ہیں نشاں
کان کی بالی اماں گری ہے کدھر
چپ رہی اپنے بچوں سے کیا بولتی
قبر میں روؤں گی ان سن سن کے بین
جانے کب آئے گا میرے بچوں کو چین
مجھ کو معلوم ہے نیند سے جاگ کر
مجھ کو ڈھونڈیں گے میرے حسن اور حسین
کیسے سمجھیں گے اب ماں نہیں آئے گی
خود سے کرتی ہوں اکثر یہ رو کر سوال
کون رکھے گا مولا تمہارا خیال
اس جوانی میں دڑھی سفید ہوگئی
میرے مرنے سے ہو جائیں گے اور نڈھال
خود کو مولا سبنھالیں قسم ہے مری
میر سجاد ماں کی جو میت اٹھی
ماں کو اولاد کھل کر نہیں رو سکی
آستیں منہ میں رکھ رکھ کے روتے تھے سب
انکی غربت پہ روتے رہے خود علی
فاطمہ کی کفن سے صدا آتی تھی
